مردوں کی خاص بیماریاں

جلق(مشت زنی)‏Masturbatiom

ہاتھ سے منی خارج کرنے والے مجلوق اوراس فعل نازیبا کو جلق یا استمنابالید کہتے ہیں.یہ بری عادت جب کسی کو پڑجاتی ہے تو اس کا چھوڑنا محال ہوجاتاہے کیونکہ ہاتھ کی رگڑ کی وجہ سے پٹھے ذکی الحس ہوجاتے ہیں اور ان کو باربار تناؤ ہوتا رہتا ہے اس لۓ وہ اس جرم کے باربار مرتکب ہوتے رہتے ہیں اکثر لوگ اس کی برائ کو محسوص کرتے ہیں. لیکن شیطانی وساوس کی وجہ سے یہ خیال کرتے ہیں کہ بس آج تو اس کام کوکرلوں پھر آئندہ کبھی نہ کروں گا.ان کومعلوم ہونا چاہیۓ کہ وہ یہی سوچتے رہیں گے تو کبھی اس کام کو نہ چھوڑ سگیں گے اور یہ آج یوم قیامت تک ختم ہونے میں نہیں گا
اب اس مرض سے پیدا ہونے والی چند ایک خرابیاں بیان کرتے ہیں.تاکہ چند منٹ لذت حاصل کرنے والوں کو معلوم ہوجاۓ کہ وہ جس فعل کو باعث لذت سمجھ رہے وہ دراصل لذت نہیں بلکہ بے شمارمصیبتوں کا پیش خیمہ ہے جس فعل کو کرنے سے آج وہ دو منٹ خوش ہوتے ہیں کبھی ان کویہی فعل سالوں رلاۓ گا.

جلق سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا مختصر بیان
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناکح الید ملعوں یعنی ہاتھ سے منی گرانے والا ملعون ہے اور خدا کی لعنت کا مستوجب.
ہاتھ کی رگڑ سے عضو تناسل کے رگ وپٹھے کمزور پڑجاتے ہیں اوران میں خوں کا دور دورہ بندہوجاتا ہے نیلی نیلی رگیں ابھر آتی ہیں اور پھر عضو تناسل میں کمزوری اور دھیلاپن پیدا ہوجاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ انتشار کے قابل ہی نہیں رہتا منی کے بار بار نکلنے کی وجہ سے نہایت خراب اور رقیق منی پیدا ہونے لگتی ہے جس سے منی کے جراثیم معدوم ہوجاتے ہیں باربار منی کے نکلنے کی وجہ سے منی کا خزانہ بھی ذکی الحس ہوجاتا ہے اور کی قوت امساکیہ بالکل کم ہوجاتی اس لۓ جب کبھی پاخانہ کرتے وقت زور لگایا جاۓ تو فورا چند ایک قطرے منی کے نکل پڑتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ ذرا سی رگڑ یا جماع کے خیال سے یا عورت سےبات چیت کرنے سے ہی منی نکل پڑتی ہے ایسی حالت کو ذکاوت حس کے نام سے موسوم کرتے ہیں علاوہ ازیں اس فعل بد کا سب سے بڑا اثر اعضاۓ رئیسہ پر پڑتا ہے اور بدن کے منی کو خارج کردینے کی وجہ سے تمام اعضاۓ رئیسہ کمزور ہوجاتے ہیں اعضاۓ رئیسہ چار ہیں .دل.دماغ.جگر.خصیتیں .گویا کہ ان چاروں کی تندرستی سے بدن انسانی تندرست رہتا ہے اور ان میں ضعف یا کوئ خرابی ہوجانے کی وجہ سے تمام بدن خراب یا کمزور ہوجاتا ہے جلق کی وجہ سے ان چاروں اعضاء کو کیا نقصان پہنچتا ہے?وہ نہایت مختصرا درج ذیل ہے
قلب.
جلق جیسے برے فعل سے جب کچھ لذت پیدا ہوتی ہے تو اس وقت یہی نہیں کہ صرف منی نکل کر بس ہوجاتی ہے بلکہ ساتھ ایک چیز اور بھی خارج ہوجاتی ہے جو کہ منی سے بھی زیادہ قیمتی ہے وہ حرارت غریزی ہے چونکہ اس کے فاعل کو باربار اس فعل کوکرنا پڑتا ہے اس لۓ حرارت غریزی اتنی خارج ہوجاتی ہے کہ جتنی اور پیدا نہیں ہوسکتی اس لۓ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل کمزور ہوجاتا ہے بعض کو خفقان اور غشی کا عارضہ بھی ہوجاتا ہے پھر جب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ سب تیری ان بدفعلیوں کا نتیجہ ہے جو اپنی بد قسمتی سے کرچکا ہے تو پھر اس کا غم لاحق ہوتا ہے اس سے دل کو بھی نقصان پہنچتا ہے اس لۓ وہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر مارے شرم کے دیکھ نہیں سکتا وہ اپنے آپ کو گناہ گار اور بدکردار سمجھتا ہے اس کا دل دھڑکتا ہے اور نہایت کمزور ہوجاتا ہے اس لۓ انتشار کے وقت وہ خون کی صحیح مقدار عضوتناسل کی طرف نہیں بھیج سکتا.اسی وجہ سے ضعف قلب کے مریضوں کو کامل انتشار نہیں ہوا کرتا
دماغ
جلق سے دماغ کو بہت جلد نقصان پہنچتا ہے کیوں کہ جو اعصاب(پٹھے) دماغ سے نکلتے ہیں وہ ذکی الحس ہونے کی وجہ سے بہت جلد کمزور ہوجاتے اور پھر وہ یہاں تک ہوجاتے ہیں کہ خواہ مرد عورت کے ساتھ بھی لیٹارہے تب بھی انتشار نہیں ہوتا علاوہ ازیں سر درد رہتا ہے ذرا سا چلنے یا بیٹھے بیٹھے کھڑے ہونے سے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاجاتاہے طرح طرح کے برے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں اورسب سےبڑی علامت یہ ہے کہ بوقت انزال مرد کو لذت بہت کم آنے لگتی ہے اس لۓ وہ التذاذ(لذت)کی دوائیں لے کر اور بھی کمزور ہوجاتا ہے
جگر
جلق کی وجہ سے جگر بہت جلد کمزور ہوجاتا ہے کیوں کہ منی کے زیادہ خارج ہوجانے کی وجہ سے خون کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے.اس لۓ جگر کو خون بنانے کے لۓ زیادہ کام کرنا پڑتا ہے لیکن جو خون پیدا ہوتا ہے وہ منی بنانے میں صرف ہوجاتا ہے .اس لۓ جگر کو پوری خوراک نہیں ملتی اس وجہ سے جگر بہت جلد کمزور ہوجاتا ہے اور جلق لگانے والے کے بدن میں خون کم ہونے کے باعث اس کے بدن کی رنگت زرد ہوجاتی ہے نیز اس کی بھوک بند ہوجاتی ہے
خصیتین
اس فعل بد کی وجہ سے یہ دونوں عضو بھی نہیں بچ سکتے چونکہ خون سے منی کویہی عضو بناتے ہیں.اس لۓ اس مذموم کام سے ان کو بھی اپنا کام باربار کرنا پڑتا ہے بلکہ اکثر مواقع پرتو منی خام یا صرف خون ہی دینا پڑتا ہے اس لۓ کمزور اور ڈھیلے ہوکر لٹک جاتے ہیں اور ان میں تھوڑا تھوڑا درد بھی رہنے لگتا ہے

دوسرے اعضاۓ
اعضاۓ رئیسہ کے علاوہ معدہ .گردہ.مشانہ.پر بھی برا اثر پڑتا ہے غرض کہ انسان صحیح معنوں میں زندہ درگور ہوجاتا ہے بلکہ بعض واقعات اور مشاہدات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کئ شخص تواس فعل بد سے اچانک مرگۓ اور بعض اشخاص کو جنون یا مالیخولیا یا رعشہ جیسی خوفناک بیماریاں چمٹ گئیں لہذا پکار پکار کر کہاجاتا ہے کہ بھائیو! اس فعل سے بچو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو .ورنہ تمام عمر پچھتاؤ گے اپنے بچوں کا خاص طور پر خیال رکھو ان کو خراب عادت لڑکوں کے ساتھ نہ ملنے بلکہ دوبچوں کو ایک جگہ چھوڑ کرکبھی بے پرواہ نہ ہو ورنہ وہ ضرور اس عادت کے مرتکب ہوکر اپنے آپ کو تباہ برباد کرلیں گے.
جمیل قادری jamilqadri50@gmail.com

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s