اسلامی مضامین

‎‫ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کی شکا یت کی ‏‎‬‎

‎صحیح بخاری‎

‎ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کی شکایت کی‎ کہ
‎ یا رسول اللہ صلعم ! میرا باپ مجھ سے پوچھتا نیہں اور میرا سارا مال خرچ کر ‎ دیتا ھے
‎ آپ صلعم نے فرمایا کہ
‎ بلاو ان کے پاپ کو
‎ جب ان کے والد کو پتا چلا کہ میرے بیٹے نے رسول اللہ صلعم سے میری شکایت کی ھے ‎ تو دل میں رنجیدہ ھوے
‎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لئے چلے ‎ چونکہ عرب کی گھٹی میں شاعری تھی
‎ تو راستے میں کجھ اشعار ذہن میں ہوا کے جھونکے کی طرح آئے اور چلے گئے ‎ ادھر بارگاہ رسالت میں پہنچنے سے پہلے
‎ حضرت جبرائل آپ صلعم کی خدمت میں حاضر ھوے اور فرمایا
‎ کہ
‎ اللہ سبحانہ و تعالہ نے فرمایا ھے کہ ان کا کیس بعد میں سنئیے گا پہلے وہ اشعار ‎ سنیں جو وہ سوچتے ہوے آ رہے ھیں
‎ جب وہ حاضر ہوے تو آپ صلعم نے فرمایا
‎ کہ
‎ آپ کا مسئلہ بعد مین سنا جائے گا پہلے وہ اشعار سنائیے جو آپ سوچتے ھوے آئے ‎ ھیں
‎ وہ بھے مخلص صحابی تھے
‎ یہ سن کر وہ رونے لگے
‎ کہ
‎ جو اشعار ابھی میری زبان سے ادا نہیں ھوے میرے کانوں نے نہیں سنے ‎ آپ کہ رب نے وہ بھی سن لئیے
‎ آپ صلعم نے فرمایا کہ وہ کیا اشعار تھے ہمیں سنائیں
‎ ان صحابی نے اشعار پڑھنا شروع کیے
‎ (میں اپ کو ان کا ترجمہ بتاتا ہوں)
‎ اے میرے بیٹے ! جس دن تو پیدا ھوا
‎ ہماری کمبختی کے دن تبھی سے شروع ھوگئے تھے
‎ تو روتا تھا ، ہم سو نہیں سکتے تھے
‎ تو نہیں کھاتا تو ہم کھا نہیں سکتے تھے
‎ تو بیمار ھو جاتا تو تجھے لیئے لیئے کبھی کسی طبیب کے پاس ،
‎ کبھی کسی دم درود والے کے پاس بھاگتا
‎ کہ کہیں مر نہ جائے
‎ کہیں مر نہ جائے
‎ حالانکہ موت الگ چیز ھے اور بیماری الگ چیز ھے
‎ پھر تجھے گرمی سے بچانے کے لئے میں دن رات کام کرتا رہا
‎ کہ
‏‎ میرے بیٹے کو ٹھنڈی چھاوں مل جائے
&g ٹھنڈ سے بچانے کے لئے میں نے پتھر توڑے
> تغاریاں اٹھائیں کہ میرے بچے کو گرمائی مل جائے
> جو کمایا تیرے لیئے
> جو بچایا تیرے لیئے
> تیری جوانی کے خواب دیکھنے کے لیئے میں نے دن رات اتنی محنت کی کہ میری ہڈیاں > بھی سوختہ ہو گیئں
> پھر
> مجھ پر خزاں نے ڈیرے ڈال لئے
> تجھ پر بہار آگئی
> میں جھک گیا
> تو سیدھا ہو گیا
> اب مجے امید ھوئی
> کہ اب تو ہرا بھرا ھو گیا ھے
> تو میں نے سوچا
> چل
> اب زندگی کی آخری سانسیں تیری چھاوں میں بیٹھ کر گزاروں گا
> مگر
> یہ کیا کہ جوانی آتے ھی
> تیرے تیور بدل گئے
> تیری آنکھیں ماتھے پر چڑھ گئیں
> تو ایسے بات کرتا کہ میرا سینہ پھاڑ کر رکھ دیتا
> تو ایسے بات کرتا کہ کوئی نوکر سے بھی ایسے نہیں بولتا
> پھر
> میں نے اپنی 30 سالہ محنت کو جھٹلا دیا
> کہ
> میں تیرا باپ نہیں
> میں تیرا نوکر ھوں
> نوکر کو بھی کوئی ایک وقت کی روٹی دے ہی دیتا ھے
> تو نوکر سمجھ کر ہی مجھے روٹی دے دیا کر
> یہ اشعار سناتے سناتے ان کی نظر اللہ کے رسول پر پڑ گئی
> آپ صلعم اتنا روئے کہ آپ صلعم کی داڑھی مبارک تر ہو گئی
> آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں اپنی جگہ سے اٹھے
> اور
> بیٹے سے فرمایا کہ
> آئندہ میری نظروں کے سامنے مت آنا
> اور سن لو
> تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے
> تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے
> تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے
> اللہ اکبر.

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s